Ijas 26 feb 10 PDF Print E-mail
Written by admin   
Tuesday, 02 March 2010 06:14

کارروائی جلسہ حلقہءاربابِ ذوق اسلام آباد
26فروری2010
حلقہ اربابِ ذوق اسلام آباد کا ہفتہ وار تنقیدی جلسہ شام چھ بجے اکادمی ادبیات پاکستان کے رائٹرز ہاوس میںمعروف افسانہ نگار جناب محمد حمید شاہد
کی صدارت میں منعقد ہوا۔ عثمان عالم نے افسانہ بعنوان ” انٹینا “ اور زاہد امروز نے نظم بعنوان ” آوازوں کا عجائب گھر،، پیش کی۔

افسانے پر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے الیاس بابر نے کہا کہ اس میں زبان و تلفظ کے کچھ مسائل موجود ہیں۔ بہت بڑا اشو لیا گیا لیکن اُسے افسانہ بنانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ زاہد امروز نے کہا کہاس افسانے میں مرکزی بات ٹیکنالوجی کا حوالہ بناتی ہے۔ افسانے میں انٹینا کے ذریعے آوازوں کو سننے کی تاریخی بات کرتے تو ایک جہت بن سکتی تھی۔ سائنسی بات واضح کرتے تو افسانہ با معنی ہو سکتا تھا۔ رفاقت علی راضی نے کہا کہ عثمان عالم سے کوئی بات بن نہیں پائی۔ حافظ کے کردار کے حوالے سے غزنی کے دو لشکروں کی بات کی گئی ہے۔ تعظیم عمران نے کہا کہ افسانے کا کوئی فوکس نہیں ہے۔ ٹین ایجر کی بات لگتی ہے۔ اس میں ادبی ٹچ نہیں ہے۔ منشا یاد نے کہا کہ اس افسانے میں کوئی چیز ادھوری رہ گئی ہے۔ انٹینا خلا میں بکھری ہوئی آوازوں کو کیچ کرتا ہے۔ کسی سائنسی ایجاد کے بغیر آوازوں کا سن لینا ناممکن ہے۔ غزنی کے حوالے سے بھی معنویت پیدا نہیں ہو سکی۔ پلاٹ بنتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ لب و لہجہ افسانوی سا لگتا ہے۔ کہانی اس میں موجود ہے لیکن اس کی بنت میں کچھ کمی رہ گئی ہے۔صاحب صدارت نے افسانے پر گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا کہ اس افسانے کے جتنے کردار ہیں وہ سارے Justify ہوتے ہیں۔ پہلے دن کی ساری گفتگو کاٹ بھی دیں تو افسانہ مناسب طور پر شروع ہوسکتا ہے۔ انہیں واقعہ کو بیان کرنے کا ہنر آتاہے۔ لیکن ابھی افسانے کی زبان بنانی ہے۔ افسانے کا جملہ اتنا سادہ بھی نہیں ہوتا تھوڑا سا تہہ دار ہوتا ہے۔ اسے بار بار لکھیں اور پرکھیں تو افسانہ بن سکتا ہے۔
افسانے پر گفتگو ختم ہوئی تو زاہد امروز نے نظم پیش کی۔عنوان تھا”آوازوں کا عجائب گھر"
نظم پر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے الیاس بابر نے کہا کہ یہ بات طے کرنی ہے کہ یہ آزاد نظم ہے یا نثری۔اس کے متن پر بھی بات کرنی ہے۔ امیجری بہت خوبصورت ہے ۔ ڈاکٹر مظہر علی نے کہا کہ ایک منظر نامہ بیان کیا گیا ہے۔ اچھی نظم تخلیق کی ہے۔ شروع سے آخر تک ایک خوبصورت انداز قائم رکھتی ہے۔ اس کا تسلسل شاید ممکن نہ ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ نظم ختم ہو گئی ہے۔ طویل نظم کا ابتدائیہ شاید نہ ہو۔ قاسم یعقوب نے کہا کہ یہ نظم کے دو بند ہیں۔پہلا بند اپنی بات ختم کرتا ہے۔ پھر دوسرا بند شروع ہوتا ہے۔ نظم کے اندر وزن کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ فعلن فعلن کی بحر میں بنی گئی ہے۔ فیصل صالح نے کہا کہ نظم فعلنکے وزن پر پوری نہیں اُترتی ۔ نجانے قاسم یعقوب نے اسے کس طرح فعلن کے وزن پر پورا کیا ہے۔ تعظیم عمران نے کہا کہ اس نظم کے دو حصے ہیں ۔ پہلے حصے میں زندگی جاگتی ہے۔ منظر کشی بہت اچھی ہے۔ دوسرے حصے میں ذرا مختلف طرح کا احساس پیداہوتا ہے۔ رفاقت علی راضی نے کہا کہ شاعر نے اس نظم کو آزاد نظم کے طور پر پڑھا ہے۔ پہلی لائن فعلن کے وزن پر پوری اُترتی ہے۔پہلے بند میں زندگی کی بات کی گئی ہے۔ اور دوسرے بند میں اپنے پرکھوں کا نوحہ ہے۔ منشا یاد نے کہا کہ پوری نظم پڑھ کر ہی کہانی سمجھ میں آئے گی۔ افسانے میںچائے کی حسرت تو موجود ہے لیکن ذائقہ نہیں ہے۔گاہک موذن لگتا ہے۔ آوازیں جہاں جہاں محسوس ہوتی ہیں، پڑھنے والوں کو بھی محسوس کرواتے ہیں۔ ماحول اچھا تخلیق کیا ہے۔آوازوں کو گرفت میں لینے میں کامیاب ہوئے ہیں۔نظم خود کو پڑھواتی ہے۔ صاحب صدارت نے نظم پر گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا کہ اچھی نظم سننے کو ملی ہے۔ منظر نامہ مطمئن کرتا ہے۔ صدی کی گہری قربت کا لہجہ اسے یاد آرہا ہے۔تہذیبی انہدام کو موضوع بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ منظرو خیال کے باوجود بعض سطریں اُلجھاتی ہیں۔ زاہد امروز خوبصورتی سے بات کہہ لیتا ہے۔ نئی لفظیات اور نیا منظر سامنے لاتا ہے۔ پہلی دو سطروںمیں کچھ مسائل ہیں۔ اسی بات کو کم لفظوں میں بھی کہہ سکتے تھے۔
اس کے ساتھ ہی جلسے کے اختتام کا اعلان کیا گیا ۔ شرکت کرنے والوں میں منشا یاد، محمد حمید شاہد، فیاض محمود قریشی،عثمان عالم، طیب عزیز ناسک، محمدمنیرمیکھان، ارشد علی ، الیاس بابر،رفاقت علی راضی، شہباز رسول فائق، ڈاکٹر مظہر علی، احمد اعجاز، ڈاکٹر صائم علی، قاسم یعقوب، زاہد امروز، مظہر حسین سید، محمود ساجد، فیصل ساغر، تعظیم عمران اور سیّد مظہرمسعودشامل تھے۔

رپورٹ :    سید مظہر مسعود،    جوائنٹ سیکرٹری حلقہ

 

 

 

 

 

 

 

 

رپورٹ اجلاس ۲۶ فروری ۲۰۱۰

حلقہ ارباب ذوق اسلام آباد کاہفتہ واراجلاس محمدحمید شاہد کی صدارت میں ہوا۔عثمان عالم نے افسانہ اور زاہدامروز نے نظم تنقیدکے لیے پیش کی۔

Last Updated on Tuesday, 09 March 2010 09:07