Feed Back
My Other Sites
Halqa Arbab -e- Zauq
Literary Functions
Mazeed Afsanay
Photo Album
Font Download

| Ijlas 12 Feb 2010 |
|
|
|
| Written by admin |
| Wednesday, 24 February 2010 09:22 |
|
کارروائی جلسہ حلقہءاربابِ ذوق اسلام آباد
۱۲ فروری ۲۰۱۰ حلقہ ءاربابِ ذوق اسلام آباد کا ہفتہ وار تنقیدی جلسہ۲۱ فروری ۰۱۰۲ءشام چھ بجے اکادمی ادبیات پاکستان کے رائٹرز ہاوس میں سرمدصہبائی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ پروفیسر ڈاکٹر احسان اکبر نے ایک طویل نظم بعنوان ” لا معکوس “ پیش کی۔
نظم پر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے اختر عثمان نے کہا کہ نظم کے اندر کو کو کا حوالہ بھی موجود ہے ۔غالب اور بلھے شاہ کا حوالہ بھی موجود ہے۔نظم کے اندرتھیالوجیکل، کلچرل اور ادبی حوالے بھی موجود ہیں۔نظم چند مسائل کو زیر بحث لایا گیا ہے۔شاعر نے نہایت سلیقے سے اپنی بات کو واضح کیا ہے۔ دس صفحے پر مشتمل اس نظم کا فوری تاثر پیش کرنا ممکن نہیں ہے۔محمد حمید شاہد نے کہا کہ اس نظم میں جواب دینے کی بجائے بہت سے سوال اُٹھائے گئے ہیں۔نظم آغاز ہی سے ساری روایات کو حرفِ غلط کی طرح کاٹتی ہوئی گزرتی ہے۔نظم اپنے اندر ایک تھیسس بھی رکھتی ہے اور شاعری کا رچاو بھی۔نظم قاری کو ساتھ لے کر چلتی ہے۔ اسے جھومنے کی بجائے سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔فیاض محمود قریشی نے کہا کہ ساری تاریخ کو کھنگالا گیا ہے۔اس طرح کی نظمیں آج کل دیکھنے ، سننے میں نہیں آتیں۔ نہایت عمدہ کام ہے۔ فن کو ایک ممتاز سطح پر لائے ہیں۔ منظر نقوی نے کہا کہ نظم تہذیبی سطح پردو طبقوں کی بات کرتی ہے۔ ایک طبقہ شر کا پیرو کار ہے اور دوسرا خیر کا۔ شاعر نے اسی بات کو آگے بڑھایا ہے۔ منشا یاد نے کہا کہ بہت خوبصورت، پر شکوہ، فنی گرفت سے سجی ہوئی اور مہارت سے بنی ہوئی نظم ہے۔نظم کے افکار پر کچھ باتوں سے اختلاف کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ادب، شاعری، افسانہ، ناول، آرٹ، میوزک، تحقیق، علم، کارنامے کوئی بھی میدان دیکھ لیں مغرب سے ملتا ہے۔ وہاں جنس کی آزادی ہے۔ شاعر نے اپنا نکتہ نظر بڑے قرینے سے واضح کیا ہے۔کئی طرح کے سوالات اُٹھائے گئے ہیں ۔ ا گر اقبال آج زندہ ہوتے تو بہت سی چیزوں کو قبول کر لیتے۔ ڈاکٹر سرور کامران نے کہا کہ ایسی بے شمار نظمیں لکھی جارہی ہیں۔ ہمیں تمام حوالہ جات سے آگاہی ہوتی ہے۔تاریخی حوالہ دینا کوئی بری بات نہیں ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان تاریخی حوالوں سے ہم نے شاعری کا کام لیا ہے یا نہیں۔اس نظم کا اپنا ایک فریم آف ریفرنس ہے۔اُنہوں نے اس نظم کو ایک جذباتی اپیل قرار دیا۔تعظیم عمران نے کہا کہ حوالہ جات کی بھر مار نے اس نظم کو متاثر کیا ہے۔ ساری بحث بھی ان تاریخی حوالوں کی طرف چل پڑی ہے۔ ایک عام قاری کے لئے اس نظم کے اندر شاعری کس حد تک اپنا وجود رکھتی ہے۔ ان حوالوں کی وجہ سے شاعرانہ حسن پیدا نہیں ہو سکا۔حوالوں پر فوکس کیا گیا ہے جس کی وجہ سے شاعری متاثر ہوئی ہے۔ صاحب صدارت نے نظم پر گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا کہ شاعر اپنا اسلوب بناتا رہتا ہے۔ وہ اس سلسلے میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہے یہ تنقید نگار بتاتے ہیں۔نظم تہذیبوں اور طاقت کے ڈھانچے کو بحث کرتی ہے۔ ڈکشن بہت ہارڈ ساوننڈہے۔ ”لا “ نفی کا عمل ہے۔جو تہذیبوں کی نفی کر رہا ہے۔”لا“ کا عدم میں چلے جانا ابہام میں رہ گیا ہے۔ اس کو مزید بہتر انداز میں سامنے لایا جا سکتا ہے۔ شاعر کا مسئلہ یہ نہیں کہ وہ کیا کرے۔ شاعر سوشیالوجی کو بھی بحث کرتا ہے، رومانس بھی کرتا ہے، ماتم بھی کرتا ہے اور شاعری بھی کرتا ہے۔ علی، تعظیم عمران، منظر نقوی اور سیّد مظہر مسعود شامل تھے۔
کارروائی جلسہ حلقہءاربابِ ذوق اسلام آباد
۲۱ فروری ۰۱۰۲ئ حلقہ ءاربابِ ذوق اسلام آباد کا ہفتہ وار تنقیدی جلسہ۲۱ فروری ۰۱۰۲ءشام چھ بجے اکادمی ادبیات پاکستان کے رائٹرز ہاو¿س میں سرمدصہبائی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ پروفیسر ڈاکٹر احسان اکبر نے ایک طویل نظم بعنوان ” لا معکوس “ پیش کی۔ نظم پر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے اختر عثمان نے کہا کہ نظم کے اندر کو کو کا حوالہ بھی موجود ہے ۔غالب اور بلھے شاہ کا حوالہ بھی موجود ہے۔نظم کے اندرتھیالوجیکل، کلچرل اور ادبی حوالے بھی موجود ہیں۔نظم چند مسائل کو زیر بحث لایا گیا ہے۔شاعر نے نہایت سلیقے سے اپنی بات کو واضح کیا ہے۔ دس صفحے پر مشتمل اس نظم کا فوری تاثر پیش کرنا ممکن نہیں ہے۔محمد حمید شاہد نے کہا کہ اس نظم میں جواب دینے کی بجائے بہت سے سوال اُٹھائے گئے ہیں۔نظم آغاز ہی سے ساری روایات کو حرفِ غلط کی طرح کاٹتی ہوئی گزرتی ہے۔نظم اپنے اندر ایک تھیسس بھی رکھتی ہے اور شاعری کا رچاو¿ بھی۔نظم قاری کو ساتھ لے کر چلتی ہے۔ اسے جھومنے کی بجائے سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔فیاض محمود قریشی نے کہا کہ ساری تاریخ کو کھنگالا گیا ہے۔اس طرح کی نظمیں آج کل دیکھنے ، سننے میں نہیں آتیں۔ نہایت عمدہ کام ہے۔ فن کو ایک ممتاز سطح پر لائے ہیں۔ منظر نقوی نے کہا کہ نظم تہذیبی سطح پردو طبقوں کی بات کرتی ہے۔ ایک طبقہ شر کا پیرو کار ہے اور دوسرا خیر کا۔ شاعر نے اسی بات کو آگے بڑھایا ہے۔ منشا یاد نے کہا کہ بہت خوبصورت، پر شکوہ، فنی گرفت سے سجی ہوئی اور مہارت سے بنی ہوئی نظم ہے۔نظم کے افکار پر کچھ باتوں سے اختلاف کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ادب، شاعری، افسانہ، ناول، آرٹ، میوزک، تحقیق، علم، کارنامے کوئی بھی میدان دیکھ لیں مغرب سے ملتا ہے۔ وہاں جنس کی آزادی ہے۔ شاعر نے اپنا نکتہ نظر بڑے قرینے سے واضح کیا ہے۔کئی طرح کے سوالات اُٹھائے گئے ہیں ۔ ا گر اقبال آج زندہ ہوتے تو بہت سی چیزوں کو قبول کر لیتے۔ ڈاکٹر سرور کامران نے کہا کہ ایسی بے شمار نظمیں لکھی جارہی ہیں۔ ہمیں تمام حوالہ جات سے آگاہی ہوتی ہے۔تاریخی حوالہ دینا کوئی بری بات نہیں ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان تاریخی حوالوں سے ہم نے شاعری کا کام لیا ہے یا نہیں۔اس نظم کا اپنا ایک فریم آف ریفرنس ہے۔اُنہوں نے اس نظم کو ایک جذباتی اپیل قرار دیا۔تعظیم عمران نے کہا کہ حوالہ جات کی بھر مار نے اس نظم کو متاثر کیا ہے۔ ساری بحث بھی ان تاریخی حوالوں کی طرف چل پڑی ہے۔ ایک عام قاری کے لئے اس نظم کے اندر شاعری کس حد تک اپنا وجود رکھتی ہے۔ ان حوالوں کی وجہ سے شاعرانہ حسن پیدا نہیں ہو سکا۔حوالوں پر فوکس کیا گیا ہے جس کی وجہ سے شاعری متاثر ہوئی ہے۔ صاحب صدارت نے نظم پر گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا کہ شاعر اپنا اسلوب بناتا رہتا ہے۔ وہ اس سلسلے میں کس حد تک کامیاب ہوتا ہے یہ تنقید نگار بتاتے ہیں۔نظم تہذیبوں اور طاقت کے ڈھانچے کو بحث کرتی ہے۔ ڈکشن بہت ہارڈ ساونڈہے۔ ”لا “ نفی کا عمل ہے۔جو تہذیبوں کی نفی کر رہا ہے۔”لا“ کا عدم میں چلے جانا ابہام میں رہ گیا ہے۔ اس کو مزید بہتر انداز میں سامنے لایا جاسکتا ہے۔ شاعر کا مسئلہ یہ نہیں کہ وہ کیا کرے۔ شاعر سوشیالوجی کو بھی بحث کرتا ہے، رومانس بھی کرتا ہے، ماتم بھی کرتا ہے اور شاعری بھی کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی جلسے کے اختتام کا اعلان کیا گیا ۔ شرکت کرنے والوں میں منشا یاد، ڈاکٹر احسان اکبر، ڈاکٹر سرور کامران، سرمد صہبائی ، محمد حمید شاہد، شہزاد لنگاہ، فرخ جمال ملیح آبادی، محمد نوید ازہر، اختر عثمان، ویر سپاہی، محمد تیمور افغانی، محمد سعید، ڈاکٹر مظہر علی، اتفاق بٹ، محمد حمید ملک، سید عامر، محمد نسیم، حسنین نازش، شبیر احمد، عبد الرو¿ف حیدر، صائمہ علی، تعظیم عمران، منظر نقوی اور سیّد مظہر مسعود شامل تھے۔ رپورٹ : سید مظہر مسعود، جوائنٹ سیکرٹری حلقہ |
| Last Updated on Thursday, 04 March 2010 07:00 |



