Feed Back
My Other Sites
Halqa Arbab -e- Zauq
Literary Functions
Mazeed Afsanay
Photo Album
Font Download

| Ijlas 05Feb 2010 |
|
|
|
| Written by admin |
| Saturday, 06 February 2010 13:38 |
|
کارروائی جلسہ حلقہءاربابِ ذوق اسلام آباد ۰ فروری ۲۰۱۰
حلقہ ءاربابِ ذوق اسلام آباد کا ہفتہ وار تنقیدی جلسہ ۵۰ فروری ۰۱۰۲ءشام چھ بجے اکادمی ادبیات پاکستان کے رائٹرز ہاو¿س میں نامور افسانہ نگار اور ناول نگار جناب منشایادکی صدارت میں ہوا۔علی اکبرناطق نے نظم بعنوان تلاش اورمحمدحمیدشاہد نے افسانہ بعنوان الٹی ہتھیلی پررکی ہوی گیٹی پیش کیا۔
نظم پر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے منظر نقوی نے کہا کہ الفاظ، بنت اور منظر کشی کے اعتبار سے بہت خوبصورت نظم ہے۔ اختر عثمان نے کہا کہ یہ ایسے شاعرکی نظم ہے جو فطرت کی گود میں پل کر جوان ہوا ہے۔ نظم نفیس کیفیت میں لے جاتی ہے۔ محمد حمید شاہد نے کہا کہ زبان و موضوعات کے اندر ایک تازگی نظر آتی ہے۔ضیاءالمصطفیٰ ترک نے کہا کہ ا س نظم میں الفاظ کی سطح پر کافی مسائل ہیں۔ نظم میں نحوی ترتیب کا خیال نہیں رکھا گیا۔صاحبِ صدارت نے نظم پر گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا کہ نظم میں فطرت کی عکاسی کی گئی ہے۔ ایک ماحول بنایا گیا ہے۔ بہت اچھی نظم ہے۔ افسانے پر گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کرنل (ر) شرافت علی نے کہا کہ اس افسانے میں سامنے کی باتوں کو فن کارانہ سطح پر بیان کیا گیا ہے۔ پر اثر افسانہ ہے۔ بہت اچھے انداز میں لکھا گیا ہے۔علی اکبر ناطق نے کہا کہ یہ افسانہ کسی سچے واقعہ کی تصویر کشی لگتا ہے۔اس افسانے میں اولاد اور والدین کے رشتے کو نہایت سلیقے سے بیان کیا گیا ہے۔منظر نقوی نے کہا کہ گیٹی زندگی کی علامت ہے۔ کبھی اُلٹی اور کبھی سیدھی ہتھیلی پر آتی ہے۔ جن رشتوں سے انسان کی زندگی چلتی ہے۔ انہیں بہت اچھے طریقے سے بیان کیا گیا ہے۔اختر عثمان نے کہا کہ اس افسانے کا نام گیٹی نہیں کچھ اور ہونا چاہئے تھا۔اُلٹی ہتھیلی بہت عجیب سا لگتا ہے۔اگر نیا لفظ بنایا گیاہےتو پسند نہیں آیا۔ اس میں راوی کا کردار اتنا مضبوط ہے کہ اشعر کی کیفیات جن میں وہ رہ کر مرا ہے ۔ وہ زندہ رہ کر عین اسی لمحے جھیل رہا ہوتا ہے۔صاحب صدارت نے افسانے پر گفتگو سمیٹتے ہوئے کہا کہ افسانے میں کی گئی ہر بات کا جواز موجود ہے۔ یہ بات بالکل درست ہے کہ اماں کو گاو¿ں کی نسبت شہرمیں گھٹن محسوس ہوتی ہے۔ شہر اور دیہاتی زندگی کا حوالہ ہے۔ منظرنہایت خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ افسانہ نگار نے زمین کی تقسیم کے حوالے سے بتا دیا کہ میں نے بچپن میں کچھ ضائع کر دیا تھا۔ وہ دوبارہ ضائع کرنا نہیں چاہتی۔ وہ نہیں چاہتی کہ بہو کے غلط مشورے سے بیٹا خراب ہو۔ اس میں مرکزی نکتہ رشتوں کا کردار ہے۔ اختر شیخ کا گھر بھی دیکھا ہوا ہے۔ سارا ماحول سامنے آجاتا ہے۔ اُس کا عہدہ چھوٹا تھا لیکن ادبی قد بڑا تھا۔ جب اماں فوت ہوئی تو مرکزی کردار کو اتنا قلق نہیں تھا ۔ جب اشعر خود اس تجربے سے گزراتو اس کو محسوس ہوا ، جب بیٹا ناکردہ گناہوں کے ضمن میں مرتا ہے تو ماں کو کتنی تکلیف ہوتی ہے۔ ماں بیٹے کی کہانی ہے ۔ وہ اماں سے گیتوں کے ذریعے بھی جڑا ہوا ہے۔ بہت پر تاثیر اور اچھا افسانہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی جلسے کے اختتام کا اعلان کیا گیا ۔ شرکت کرنے والو میں منشا یاد، محمد حمید شاہد، کرنل (ر) شرافت علی، فیاض محمود قریشی، علی اکبر ناطق، اختر عثمان، عثمان عالم، طیب عزیز ناسک، محمدمنیرمیکھان، ضیاءالمصطفیٰ ترک، ارشد علی ، منظر نقوی اور سیّد مظہر مسعود شامل تھے۔ رپورٹ : سیٰد مظہر مسعود،جوائنٹ سیکرٹری حلقہ
|
| Last Updated on Thursday, 04 March 2010 06:36 |








